When My Nervous System Spoke to Me
My Nervous System to Me کچھ نہیں ہوا... ایسا بھی کچھ نہیں ہوا کہ تم خود کے اندر اتنا کچھ جمع کر کے بیٹھ جاؤ۔ اس خالی جگہ کو اتنا کیوں بھرے جا رہی ہو؟ وہاں کچھ نہیں ہے... ذرا رکو... ٹھہرو... اتنے thoughts... اتنے emotions... اتنے چھوٹے چھوٹے خیال... اور اتنی emotional instability ایک ہی ساتھ... میری برداشت سے باہر ہے۔ تم ہر احساس کو اتنی شدت سے کیوں محسوس کرتی ہو؟ ہر بات کو دل پر کیوں لے لیتی ہو؟ ہر خاموشی میں اتنی آوازیں کیوں بھر لیتی ہو؟ تم ہمیشہ وہی کام کیوں کرتی ہو جن سے مجھے تکلیف ملے؟ یوں دیر دیر تک سانسیں روک کے ایک جگہ بیٹھ جانا... یوں دھندلائی دھندلائی نظروں سے ایک ہی سمت گھورتے رہنا... یوں خود میں گم ہو جانا کہ آس پاس کی دنیا بھی اجنبی لگنے لگے... آخر کیوں؟ تمہیں لگتا ہے تم صرف خاموش بیٹھی ہو، مگر میں جانتا ہوں تمہارے اندر کیا چل رہا ہے۔ ایک خیال ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آ جاتا ہے۔ ایک ڈر جاتا نہیں کہ دوسرا دروازہ کھٹکھٹانے لگتا ہے۔ تمہارا دماغ ایک لمحے کے لیے بھی آرام نہیں کرتا، اور اس کا بوجھ مجھے اٹھانا پڑتا ہے۔ اور یہ جو تم ہر بات اپنے اندر دفن کر دیتی ہو... یہ بھی مجھے...