“پاکستان: وعدوں کا قبرستان یا امید کی آخری سانس؟”
ایک گھٹن زدہ ریاست: جب حکومت ناکام ہو جائے اور عوام ٹوٹنے لگیں پاکستان اس وقت صرف ایک معاشی بحران سے نہیں گزر رہا—یہ ایک نظامی ناکامی (systemic failure) کا شکار ہے۔ ایک ایسا نظام جو نہ صرف عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکا ہے بلکہ ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال مزید تیز ہوتا جا رہا ہے: کیا یہ حکومت عوام کے لیے ہے بھی یا نہیں؟ “بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے” مہنگائی نہیں—معاشی استحصال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اب محض معاشی مجبوری نہیں لگتا—یہ ایک منظم استحصال محسوس ہوتا ہے۔ جب ایک ملک کے پاس متبادل راستے موجود ہوں، جب خطے میں سستے وسائل دستیاب ہوں، تو پھر عوام کو مہنگائی کے اس عذاب میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا:ٹ رانسپورٹ مہنگیا شیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پرب جلی اور گیس کے بل ناقابلِ برداشت یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں پستا صرف عام آدمی ہے—اور فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ یہ سوال آج بھی جواب مانگ رہا ہے۔ تعلیم: ایک تباہ شدہ نظام تعلیم کا نظام...