Skip to main content

“پاکستان: وعدوں کا قبرستان یا امید کی آخری سانس؟”


ایک گھٹن زدہ ریاست: جب حکومت ناکام ہو جائے اور عوام  ٹوٹنے لگیں

پاکستان اس وقت صرف ایک معاشی بحران سے نہیں گزر رہا—یہ ایک نظامی ناکامی (systemic failure) کا شکار ہے۔ ایک ایسا نظام جو نہ صرف عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکا ہے بلکہ ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال مزید تیز ہوتا جا رہا ہے: کیا یہ حکومت عوام کے لیے ہے بھی یا نہیں؟

“بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے”

مہنگائی نہیں—معاشی استحصال

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اب محض معاشی مجبوری نہیں لگتا—یہ ایک منظم استحصال محسوس ہوتا ہے۔ جب ایک ملک کے پاس متبادل راستے موجود ہوں، جب خطے میں سستے وسائل دستیاب ہوں، تو پھر عوام کو مہنگائی کے اس عذاب میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟

یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا:ٹ

رانسپورٹ مہنگیا

شیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پرب

جلی اور گیس کے بل ناقابلِ برداشت

یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں پستا صرف عام آدمی ہے—اور فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ یہ سوال آج بھی جواب مانگ رہا ہے۔

تعلیم: ایک تباہ شدہ نظام

تعلیم کا نظام اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اب اسے اصلاح کی نہیں، ازسرِ نو تعمیر کی ضرورت ہے۔ بار بار تعطیلات، غیر سنجیدہ پالیسیز، اور نااہلی نے طلبہ کے مستقبل کو ایک مذاق بنا دیا ہے۔

کیا یہ وہی قوم ہے جس کے نوجوانوں کو دنیا سے مقابلہ کرنا ہے؟
یا ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو صرف ڈگری لے کر بےروزگار بیٹھے؟

“کتابیں چھین کر ہاتھوں سے، ہمیں اندھیروں میں دھکیلا گیا
پھر کہتے ہیں تم روشنی کیوں نہیں بنتے”

روزگار: وعدے، جھوٹ، اور کرپشن

نوکریاں اب میرٹ پر نہیں ملتیں—یہ ایک کھلا راز ہے۔ سرکاری سیٹیں جب نکلتی ہیں تو عوام کو امید ہوتی ہے، مگر جلد ہی وہ امید مایوسی میں بدل جاتی ہے۔

یا تو سیٹیں محدود
یا سفارش اور رشوت کا کھیل
یا نتائج میں شفافیت کا فقدان

یہ صرف ناانصافی نہیں—یہ نوجوانوں کے مستقبل کا قتل ہے۔

نجی شعبہ بھی کسی جیل سے کم نہیں:

10-12 گھنٹے کی ڈیوٹی
انتہائی کم تنخواہ
کوئی جاب سکیورٹی نہیں

ایک انسان مشین بن جاتا ہے—کام کرتا ہے، تھکتا ہے، مگر پھر بھی اس کی زندگی نہیں بدلتی۔

ذہنی دباؤ: ایک خطرناک حد

جب ایک شخص مسلسل ناکامی، مہنگائی، اور ناانصافی کا سامنا کرے، تو وہ صرف پریشان نہیں ہوتا—وہ ٹوٹ جاتا ہے۔

پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران اب ایک ایمرجنسی بن چکا ہے۔ مگر اس پر بات کون کرے؟ حکومت؟ ادارے؟ یا وہ معاشرہ جو ابھی تک اسے سنجیدہ مسئلہ ماننے کو تیار نہیں؟

“ہم چیختے رہے خاموشی میں
اور دنیا ہمیں خاموش ہی سمجھتی رہی”

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود سے ہارنے لگتا ہے—اور یہی سب سے خطرناک لمحہ ہوتا ہے۔

عوام بمقابلہ نظام: اعتماد کا خاتمہ

آج عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ فیصلے عوامی مفاد میں نہیں بلکہ مخصوص حلقوں کے فائدے کے لیے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ کوئی الزام نہیں—یہ ایک اجتماعی احساس ہے جو ہر طبقے میں پایا جا رہا ہے۔

عوام کی مانگ کیا ہے؟

سستی روٹی
ایماندار روزگار
معیاری تعلیم
بنیادی عزت

کیا یہ مانگ زیادہ ہے؟

خاموشی کب تک؟

سب سے خطرناک چیز یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں—بلکہ یہ ہے کہ لوگ اب ان حالات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ خاموشی بڑھ رہی ہے، اور یہی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

“جب ظلم بڑھتا ہے تو بغاوت جنم لیتی ہے
یہ تاریخ کا اصول ہے، کوئی اتفاق نہیں”

نتیجہ: اب فیصلہ کس نے کرنا ہے؟

پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو اصلاح ہوگی—یا مزید تباہی۔

یہ وقت ہے:

حقیقی احتساب کا
شفاف فیصلوں کا
عوامی مسائل کو ترجیح دینے کا

ورنہ تاریخ گواہ ہے—جب عوام ٹوٹ جاتے ہیں، تو صرف نظام نہیں، ریاستیں بھی ہل جاتی ہیں۔

“ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک”

Comments

Tabish Nisar said…
khuda aasani farmaie pakistan ki awam pai 🥹
Anonymous said…
پاکستان ""اے اللّه اس کے نوجوانوں کو آگاہی دے دے آ مین
Anonymous said…
Bitter truth

Popular posts from this blog

ہیر کمزور نہیں تھی

    -------------— ( ہیر کمزور نہیں تھی) ــــــــــــــ اک اداس   شام ، ۔۔ڈھلتا سورج   اور تپتی زمین مد مقابل تھے۔۔۔گھڑی کی ٹکٹک بہت واضح ، پرندے جیسے خاموش تھے۔۔اک اوسط طبقے کے گھر میںمکین وه کچی عمر کی دوشیزه۔۔اپنے بستر پر   نیم دراز ۔۔۔عجیب خیالات میںمحو۔۔۔خود سے ہی سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔نہیں معلوم کس الجھن کا شکار تھی۔۔۔جو اک جگہ سے تھک جاتی تو دوسری جگہ لیٹ کر خود کو اک نئے انداز میں بہلانے لگ جاتی ۔۔۔کبھی گلدستہ کا اک پھول اسے راضی کر دیتا تو کبھی دیوار کی کوئی دراڑ   اسے منہ چڑھا دیتی۔۔۔مگر خود پہ یقین کامل رکھتی تھی ، وه اپنے عمر رسیده حجرے میں بھی شدید مطمئن تھی۔۔۔چاہتی تھی رنگ لانا ، مگر لوگوں کی زندگیوں میں ، نہ کہ ان دیواروں پہ جو بھول چکی تھی کہ ان پہ آخری رنگ کونسا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی ہوا نے پردے کو ہلکا سا جنبش دی۔ دھول کے ذرات سورج   کی آخری کرنوں میں رقص کر رہے تھے، جیسے اس کے اندر کے سوالوں    کا جواب مانگ رہے ہوں۔   اس نے آنکھیں بند کیں اور سوچا... اگر میں ایک لفظ ہوتی تو کون سا ہوتی؟   ....

Recite This Dua on 10th Muharram

"Recite, Reflect, Remember: The Dua of Ashura on 10th Muharram" The 10th of Muharram , known as Ashura , holds deep spiritual significance in Islam. It is a day of remembrance, sacrifice, and reflection — marked by the ultimate stand for truth in the Battle of Karbala , where Imam Hussain ibn Ali (A.S.) , the beloved grandson of Prophet Muhammad (PBUH), and his loyal companions were martyred. But Ashura is not only a day of mourning — it is also a day of spiritual opportunity . Among the recommended acts on this sacred day is the recitation of a powerful supplication known as the Dua of Ashura , attributed to Imam Zain-ul-Abideen (A.S.) , the son of Imam Hussainsincerity What is the Dua of Ashura? The Dua of Ashura is a special Islamic supplication (dua) recited on the 9th or 10th of Muharram , particularly during daylight hours , between sunrise and sunset . According to traditions, Imam Zain-ul-Abideen (A.S.) narrated: “Whoever recites or listens to this dua on t...