ہیر کمزور نہیں تھی
-------------— ( ہیر کمزور نہیں تھی) ــــــــــــــ اک اداس شام ، ۔۔ڈھلتا سورج اور تپتی زمین مد مقابل تھے۔۔۔گھڑی کی ٹکٹک بہت واضح ، پرندے جیسے خاموش تھے۔۔اک اوسط طبقے کے گھر میںمکین وه کچی عمر کی دوشیزه۔۔اپنے بستر پر نیم دراز ۔۔۔عجیب خیالات میںمحو۔۔۔خود سے ہی سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔نہیں معلوم کس الجھن کا شکار تھی۔۔۔جو اک جگہ سے تھک جاتی تو دوسری جگہ لیٹ کر خود کو اک نئے انداز میں بہلانے لگ جاتی ۔۔۔کبھی گلدستہ کا اک پھول اسے راضی کر دیتا تو کبھی دیوار کی کوئی دراڑ اسے منہ چڑھا دیتی۔۔۔مگر خود پہ یقین کامل رکھتی تھی ، وه اپنے عمر رسیده حجرے میں بھی شدید مطمئن تھی۔۔۔چاہتی تھی رنگ لانا ، مگر لوگوں کی زندگیوں میں ، نہ کہ ان دیواروں پہ جو بھول چکی تھی کہ ان پہ آخری رنگ کونسا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی ہوا نے پردے کو ہلکا سا جنبش دی۔ دھول کے ذرات سورج کی آخری کرنوں میں رقص کر رہے تھے، جیسے اس کے اندر کے سوالوں کا جواب مانگ رہے ہوں۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور سوچا... اگر میں ایک لفظ ہوتی تو کون سا ہوتی؟ ....