ہیر کمزور نہیں تھی
-------------— (
ہیر کمزور نہیں تھی) ــــــــــــــ
اک اداس شام ، ۔۔ڈھلتا سورج اور تپتی زمین مد مقابل تھے۔۔۔گھڑی کی ٹکٹک بہت
واضح ، پرندے جیسے خاموش تھے۔۔اک اوسط طبقے کے گھر میںمکین وه کچی عمر کی
دوشیزه۔۔اپنے بستر پر نیم دراز ۔۔۔عجیب
خیالات میںمحو۔۔۔خود سے ہی سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔نہیں معلوم کس
الجھن کا شکار تھی۔۔۔جو اک جگہ سے تھک جاتی تو دوسری جگہ لیٹ کر خود کو اک نئے
انداز میں بہلانے لگ جاتی ۔۔۔کبھی گلدستہ کا اک پھول اسے راضی کر دیتا تو کبھی
دیوار کی کوئی دراڑ اسے منہ چڑھا
دیتی۔۔۔مگر خود پہ یقین کامل رکھتی تھی ، وه اپنے عمر رسیده حجرے میں بھی شدید
مطمئن تھی۔۔۔چاہتی تھی رنگ لانا ، مگر لوگوں کی زندگیوں میں ، نہ کہ ان دیواروں پہ
جو بھول چکی تھی کہ ان پہ آخری رنگ کونسا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی ہوا نے پردے کو
ہلکا سا جنبش دی۔ دھول کے ذرات سورج کی
آخری کرنوں میں رقص کر رہے تھے، جیسے اس کے اندر کے سوالوں کا جواب مانگ رہے ہوں۔
اس نے آنکھیں بند کیں اور
سوچا... اگر میں ایک لفظ ہوتی تو کون سا ہوتی؟
. اگر میں ایک رنگ ہوتی تو کس دیوار پر اترتی؟
زیر گردش خیالات میں اک
پکار اس کی سماعتوں کو ٹکرائی ۔۔۔جو کہ اسے
یہ باور کرانے میں مددگار ثابت ہوئی کہ ابھی اس کو شام کے برتن بھی دھونے
ہیں۔۔۔وه تھکا سا وجود ، اک جھٹکے پہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔"چلو ہیر چلیں"
۔۔۔راه میں آنے والا آئینہ ہمیشہ اسے روک
لیتا تھا۔۔۔ کملی ہیر ہمیشہ کی طرح خود کو اس آئینے میں سراہنے میں کامیاب ہو جاتی
تھی جو اپنے ڈھیلے جوڑے کو کھول کر اپنے بالوں کو کیچر کی ایسی گرفت میں مبتلا کر
دیتی کہ سامنے والی زلفیں اس کے گالوں پر رقص کرتی رہتی۔۔۔اک نرم سی مسکراہٹ خود
کو پیش کر کہ برتن دھونے روانہ ہوگئی ۔۔۔نل کھولا ، پانی اپنی روانی سے بہنے لگا۔۔۔اور
وه ۔۔۔اپنے جھاگ بھرے ہاتھوں میں کھو گئی ۔۔۔جو دھل کر کِھل سے اٹھے تھے۔۔۔برتن
کھنگالتے ہوئے قسمت کی
"لکیروں کو ٹٹولنے لگتی۔۔۔"سنو ہیر...تم خوش قسمتی کا ستاره
ہوکہہ کر خود ہی مسکرانے لگتی۔۔۔برتن سمیٹتے ہوئے آخری پلیٹ (جس میں اسکا چہره واضح عکس دکھا رہا
تھا)کو بھی اس کی منزل پر ٹکا دیا ۔کاممکمل کرتے ہی اس نے سرخ ہاتھوں سے ڈوپٹے کا
کونا پکڑا اور اس کوفاتحانہ انداز میں چہرے پر پھیر دیا۔۔
وه ایسی ذہنیت کی مالکہ تھی جس کا مقصد فقط
اپنے کمزور پہلوؤں کو طاقت کا رخ دینا تھا۔۔۔
منتظر تھی کہ سب رات کے اندھیرے میں مشغول ہو
تو وه۔آنکھ بچا کر ڈائری اٹھا لے۔۔۔جس کا مشغلہ اہل ذوق ہونا تھا۔۔۔وہی مشغلہ اب
اسکی سانسبن گیا تھا ۔۔کمرے کی لائٹ نہیں جلائی ۔۔موبائل کی ہلکی روشنی میں وه
صفحات کو دھیمے سے الٹنے لگی۔۔جس کی آہٹ
اگلے صفحے کو بھی سنائی نہ دے۔۔سیاہی کی خوشبو تھی ۔اور پچھلے لفظوں کی ہر لائن کے نیچے اک رات دبی
ہوئی تھی ۔۔اس پہر شاید وه چوکنا ہو جاتی تھی ۔۔۔جیسے کوئی خود اپنی کہانی کو
ترتیب دیتا ہو۔۔۔۔ اس رات وه چور نہیں تھی ، وه اپنی ہی کہانی کی مصنفہ تھی۔۔۔اس
کے قلم نے اچانک ہی ان زردسطروں میں چھیڑ خانی شروع کر دی ۔۔۔لکھتے ہوئے جو ڈائری
کے صفحوں کو حیران کر جاتی تھی۔۔۔
ہیر کو جیسے یہ اندھیرا
دوست لگنے لگا تھا۔۔۔وه خود کو اس پہر زیاده
!!واضح دیکھنے لگتی تھی۔۔۔
وه خود کی سب سے بڑی
رازدان تھی اور اپنے آپ میں اک طاقت تھی۔۔۔!!
!!مگر حالات کے نشیب و فراز اسے الجھا کیوں
دیتے تھے ۔۔۔
آج سوال ذرا منفرد تھا ہیر
تم لکھتی کیوں ہو آخر تم نے کچھ کھویا ہے کیا؟
وه مسکرا کہ بتانے لگی ۔۔۔مجھے لکھنے کا شوق آج سے نہیں ۔۔۔ میں نے لکھنا بچپن میں سیکھا تھا۔۔جب امی برتن دھو رہی
ہوتی تھی تو میں پانی کے بلبلوں میں اپنا نام لکھا کرتی تھی ، میں سفر کرتے ہوئے
گاڑی کے گرد آلود شیشے پہ کچھ لکھا کرتی تھی۔۔
میں صحن میں ڈالی ہوئی
گندم میں کچھ لکھا کرتی تھی ، چاول صاف کرنے
کے لیے رکھے جاتے ہیں تو میں ان میں لفظ بنانے لگتی تھی ۔۔تمہیں کیا
!!معلوم میں اسمان کے ستاروں میں لفظ جوڑ رہی
ہوتی تھی۔۔۔ وه رکی ، سانس لی۔۔ ۔
جب میں جماعت پنجم میں تھی تو میری کلاس ٹیچر نے
کہا سب بچے کچھ لکھ کر لائیں گے اور میں نے
بڑے وثوق سے اک گڑیا پہ پوری کہانی لکھ
!!ڈالی۔۔۔
ہیر کے بچپن میں دو
بہترین دوست تھے اک اسکے والد اور ایک۔ ۔
!!وه
گڑیا ۔۔۔ ۔
!!اک
بھرائی ہوئی سی سانس لی۔۔ ۔
گڑیا۔۔۔۔جو ہیر کو بچپن میں تحفہ ملا تھا۔۔۔جو
اس کے دل کے بہت قریب تھی۔۔۔گوری رنگت،
سرخ لہنگا، دو چُٹیاں ، سنہرے بال
، کتھئ آنکھیں۔۔۔۔!! جس کو ہیر اپنی گود میں لٹا کر ساری باتیں بتاتی تھی۔۔۔اس کو
وهدوست کافی تھی ، اس کے بال بناتی ، چہرے پہ ہاتھ پھیرتی، اس کو ساتھسلاتی ، بال
سہلاتی، خود سے زیاده اس کو سراہتی ۔۔۔اک روز۔۔۔۔
(نظریں جھک گئی۔۔۔)
وه خوشی ہیر سے چھین لی
گئی ۔۔۔اگلے روز اس کو کھیلنے کے لیے وه
گڑیا نہ ملی۔۔۔دربدر ڈھونڈا گیا۔۔۔زمیں کھا گئی کہ آسماں نگل گیا۔۔۔وه نہ
!!ملی۔۔ہیر کو انسیت ہو گئ
تھی شاید ۔۔۔۔ اس کا جانا بجا تھا۔۔۔ ستره سال پہلے کھوئی ہوئی گڑیا مجھے آج بھی
ہوبہو یاد ہے۔۔ ۔ وقت گزرتا گیا اور گڑیا سے محبت گہری ہوتی گئی ۔۔۔ ۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی
ضرورت بڑھتی گئی ۔۔۔اسے اس چھوٹے سے بیڈ
کو جو اس کے ابا نے گڑیا کیلئے بنا دیا تھا ، خالی دیکھنا بڑا خساره لگتا
تھا اک شام ہیر دکان پہ گئی ، تو اسے چھوٹی ، چھوٹی دبلی پتلی گڑیا نظر آئیں جو مختلف رنگوں کے لباس زیب تن کیے ہوئے
تھیں۔میری گڑیا جیسی تو کبھی نہیں ہو سکتی۔۔مگر اس خالی بیڈ کو جوابده نہیں ہونا
پڑے گا ۔۔اس نے پوچھا تو اس کی قیمت 35 روپے
تھی۔۔۔ پینتیس۔۔۔۔!! ۔۔۔ ۔
تین سے چار دن لگ جائیں گے
۔۔۔ہر شام جاتے ہوئے رنگ پسند کر لیتی تھی
۔۔۔
!!آج ہیر کے
چہرے پر عجیب چمک تھی۔۔ ۔
دو دس کے نوٹوں ، اور دو
پانچ کے سِکوں میں آج آخری سِِکہ شامل ہو چک ا !!تھا ۔۔۔۔دل کچھ مسرور تھا ۔۔۔۔
وه تیز تیز قدم اٹھاتے ۔۔۔اس دکان پر پہنچ گئ۔ ۔
وه اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں مضبوطی سے سکے
تھامے ہوئے ان
کو آخری بار
گن رہی تھی۔۔۔جیسے اس کے کسی خواب کا معاوضہ اس کیمٹھی میں تھا۔۔۔
لب مسکرائے ہوئے ، اس نے وه مٹھی آگے بڑھا دی
بھائی وه۔۔۔۔۔۔ ۔
اشاره کرتی
انگلی کھڑی ره گئ ۔۔۔اور نظریں تیزی سے وه گڑیا ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔مگر ہیر
۔۔۔۔
وه تو بِک چکی ہے۔۔ ۔
وه کھڑی شہادت کی انگلی
اچانک سے جھک گئ ، وه مضبوط مٹھی ڈھیلی سی پڑ گئی ۔۔۔۔ہیر کی آنکھوں میں آنسو بھر
آئے، بھاری قدموں سے وه!!واپس آنے لگی ، اسے احساس ہوا کہ وه پسندیده چیزیں کھو
دیتی ہیں۔۔۔وه چہچہاتی ہیر ۔۔۔اس روز خاموش ہو گئی تھی۔۔۔وه آج دیواروں سے باتیں نہیں کر رہی تھی ، وه اپنے بالوں کو آگے پیچھے
ہلا نہیں رہی تھی ، اور تو اور اس نے اینٹوں کو چھڑی سے مار مار کر پڑھانا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ !!جس دن انسان کچھ کھونا سیکھ جائے اس دن وه
بڑا ہو جاتا ہے۔۔ ۔ وه ہیر بڑی ہونے لگی تھی۔۔۔۔ پسندیده فراک نہ ملنے پر صبر کا
گھونٹ اتار جاتی ۔۔۔اور میچنگ جوتے میں
نمبر نہ ملنے پر خشک سی مسکراہٹ دے
!!جاتی۔۔۔
علاقے کے اک سرکاری سکول
میں جاتے ہوئے وه اپنے خوابوں کو ہر قدم
کے ساتھ وسیع کرتی جا رہی تھی۔۔۔
وقت کے تیز ہچکولوں کے
ساتھ اس نے سیکھ لیا تھا ،اکتفا کرنا ۔۔۔چیزوں کہ
نہ ہونے پہ وه دل برداشتہ نہیں ہوتی تھی ۔۔!!۔
گرمیوں کی چھٹیاں ۔۔۔وه
ٹھنڈک سی صبح ۔۔۔دن یوں ہی معمول کے مطابق گزر گیا۔۔۔اپنے انداز میں جیتی اور موقع
ملتے ہی ابا کو ساری روداد سنا دیتی۔۔۔چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے آگاه کرتی۔۔۔۔گھر میں
کوئی ڈانٹنے کی مجال کرتا تو جھٹ سے بابا کو شکایت لگا دیتی۔۔اور ایک بات "میری شہزادی کوئی ہاتھ تو لگا کر
دیکھے " سن کر فتح یاب ہو جاتی ۔۔۔۔اس کے بابا کی اولین خواہشات میں سے اک یہ
تھی کہ میری ہیر کو دور مت !!بھیجاکرو۔۔۔
مگر آج یہ شام پہلے سے کچھ
زیاده بوجھل محسوس ہو رہی تھی۔ یہ جون آج
جوبن پر تھا ۔۔عید میں فقط دس دن باقی تھے۔۔۔۔
شام کا سایہ دیواروں پر
پھیل رہا تھا اور دل میں عجیب گھٹن تھی۔۔۔۔امی شام کے چولہے میں مشغول تھی اور بابا چارپائی پر
تھکے ہوئے سے لیٹےہوئے تھے پیشانی پر محنت
کا پسینہ اور آنکھوں میں ان کہی سی فکر۔۔۔۔اور!!ساتھ لاحق سی کھانسی
وه رات جیسے زیاده گہری محسوس ہورہی تھی ۔۔۔جس
میں ہیر کو آج ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔کھانسی جیسے گزرتی رات کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی
تھی۔۔۔!! اور کوئی دوا کام نہیں آرہی تھی ۔۔۔نوبت یہ آگئ کہ ہسپتال منتقل
کرناپڑا۔۔۔قریبی ہسپتال سے جواب پاکر آگے بھیجا گیا۔۔۔۔ہیر کی خوفزدگی بجاتھی۔۔۔
گاڑی کا انتظام ہوا ۔۔۔12
بج چکے تھے ۔۔۔رات کے اس پہر سوزوکی سنسان سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔ شہر سو رہا تھا،
صرف اسٹریٹ لائٹس کی زردروشنی اور گاڑی کی ہیڈلائٹ اندھیرے کو چیر رہی تھی۔ اندر
مکمل خاموشی تھی۔ امی نے بابا کا سر گود میں رکھا ہوا تھا اور بے آواز آنسو پی رہی
تھیں۔ ہیر کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی جہاں بند دکانیں اور خالی سڑکیں ایک کے بعد
ایک گزر رہی تھیں۔ ڈرائیور بار بار ہارن بجا کر راستہ مانگ رہا تھا جیسے وقت سے
پہلے ہسپتال پہنچنا ہو۔ بابا کی سانس گاڑی کے ہر جھٹکے کے ساتھ اٹک رہی تھی۔ بیس
منٹ کا یہ سفر صدیوں جتنا لمبا لگ رہا تھا۔ دل میں بس یہی دعا تھی کہ کہیں دیر نہ
ہو جائے۔ عید میں نو دن باقی تھے
بابا کا ہاتھ ہیر کی ہتھیلی
میں تھا۔ پہلے گرم تھا، پھر ٹھنڈا، اور پھر ایس ا جیسے کبھی اپنا تھا ہی نہیں۔ ہیر
نے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا تھا، جیسے اگر چھوڑ دیا تو سانس بھی چلی جائے گی۔ اندر
چیخیں تھیں، دل بار کہہ رہا تھا "بابا مجھے اکیلا مت چھوڑیں"۔ مگر ہونٹ
سلے ہوئے تھے اور گلے میں ایسی گھٹن تھی کہ ایک لفظ بھی باہر نہ نکلا۔
پھر بابا نے آنکھ کھولی۔
تھکی ہوئی، دھندلی، مگر اس ایک نظر میں انہوں
نے ساری محبت ڈال دی۔۔۔وه حسرت بھری نگاه ہیر پہ لگی ہوئی تھی۔۔ہونٹ کانپے،
آواز نہیں نکلی۔۔۔جیسے آنکھیں خاموشی سے کہ رہی ہو"بیٹا...
سنبھل... جانا"۔ وه
آخری لفظ تھا۔ اس کے بعد سینہ بھرا اور ہمیشہ کے لیے رک گیا۔
ہیر نے ایک پل کچھ محسوس
نہیں کیا۔ نہ درد، نہ رونا۔۔۔۔مگر ماں کے اندر
اپنے ساتھی کو وداع کرنے کا جگرا نہیں تھا انُہوں نے ہسپتال جانا
مناسب سمجھا کہ شاید کوئی فرشتہ صفت ڈاکٹر ہمارے خدشے کو غلط ثابت کردے۔۔مگر حقیقت
کہاں جھٹلائ جاتی ہے ۔۔حقیقت تو طاری ہو جاتی ہے۔
۔سفید چادر ، سفید دیواروں اور بیپ کی مشینوں نے ہوا کو مزید
بوجھلکردیا تھا۔ڈاکٹر نے جلدی سے وه لفظ ادا کردیے۔۔۔جن سے ہیر بھاگ رہیتھی۔قدموں
تلے سے زمین کھینچ لی گئی ، سر سے آسماں اٹھا لیا گیا۔۔۔۔بسہاتھ میں بے جان ہاتھ
ره گیا اور دل کے اندر ایک ایسی خاموشی اتر گئی جوزندگی بھر شور کرتی رہے گی۔ اس
نے آہستہ سے اپنا ماتھا بابا کے ماتھےسے لگا دیا۔ باہر ہسپتال کی لائٹس تیز تھیں،
اور اندر عید سے 9 دن پہلےسب اندھیرا ہو چکا تھا
ECG
کے بعد ماتھے اور پاؤں کے انگوٹھوں پہ سفید
گانٹھیں باندھ دی گئیں۔۔۔جیسے آج کسی نے ادھوری خواہشوں کی گھٹڑی باندھ دی ہو
!!۔۔۔۔۔
سماعتیں چیر دینے والی
ایمبولینس ہیر کے بابا کو اڑان بھرتے ہی گھر لے
!!گئی ۔۔۔۔
صبح کا اندھیرا چھٹ رہا
تھا۔۔۔مگر روشنی نہ تھی۔۔۔گھر کے درو دیوار آج
رو رہے تھے۔۔۔ماں کو لوگ تسلیاں دے رہے تھے ۔۔۔ہیر کے سر پہ ہاتھ پھیرے
جارہے تھے ۔۔۔مگر وه لوگ کیا جانے جو آج اس نے کھویا ہے ، جو سایہ اس سر سے اٹھا
ہے ، ساری دنیا ملکر بھی وه ہاتھ نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔ہمدردانہ الفاظ اس کی روح کو
مزید زخمی کرتے جا رہے تھے۔۔۔۔انکھیں سوجی ہوئی تھیں۔۔۔جو تمام رات کسی چہرے کو
آخری بار !!تک رہی تھی۔۔۔۔
کچھ لوگ گھر کی راہداری
میں داخل ہوئے اور کہا کہ جلدی کیجیے وقت
گزر رہا ہے۔۔۔۔مگر ہیر کا وقت تو اس لمحے رک گیا تھا جب اس کے بابا نے دم
توڑا تھا۔۔۔۔وقت تو آگے بڑھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راہداری میں جوتوں کی آواز زیاده ہو گئی
تھی۔۔۔ہیر وضو کر کے آگے
بڑھی ، اور ساری ہمت اکٹھی کر کے اس ماتھے پر اک نرم سا بوسہ دیا اور پھر
اس چہرے کو ہمیشہ کے لیے ڈھانپ دیا گیا۔۔۔۔چار کندھوں کا سہارا دیا گیا ۔۔۔اور ماں
کا ضبط ٹوٹا ، وه ڈوپٹے میں اپنا چہره چھپا کر پاش پاش رو !!دی ۔۔۔۔اور ہیر کی آه و زاری سے اس گھر کی بنیادیں
لرز اٹھیں۔۔۔۔ گلی کے موڑ تک آنکھیں جنازے کے ساتھ گئیں ۔۔۔اور پھر خالی صحن
کی !!!طرف مڑ گئی ۔۔۔۔۔۔
آج ۔۔۔وه ہیر ۔۔۔۔ٹوٹ چکی
تھی ۔۔۔۔۔وه عمر رسیده حجرے کی مطمئن ہیر ۔۔۔آج
!!چھلنی
ہو چکی تھی۔۔۔۔
سنو تم پوچھتے تھے ناں؟ کہ ہیر تم نے کچھ
کھویا ہے کیا ۔۔۔۔سنو ہیر نے اپنی دنیا
کھو دی ہے ۔۔۔35 روپے کی گڑیا نہ ملنے کا دکھ تو بہت چھوٹا تھا۔۔۔۔۔اس نے اعتراف
کیا تھا کہ اس کے دو دوست ہیں ۔۔۔اس کے بابا اور
!!اسکی
گڑیا ۔۔۔۔اس نے وه دونوں کھو دیے تھے۔۔۔۔۔
پسند کا فراک کھویا تھا ، دل کو بھانے والا
جوتا نہ ملا تھا۔۔۔۔سب ہی نقصان تو کر چکی تھی اپنے۔۔۔۔۔!! ہیر کے پاس نہ بابا کا
سایہ تھا ، نہ سرخ لہنگے!!والی گڑیا۔۔۔۔
اس دن کے بعد ہیر بدل چکی تھی۔ بالکل بدل گئی
تھی۔ اب وه کسی چیز کو اپنا نہیں کہتی
تھی۔ نہ اپنی کتاب، نہ اپنی چادر، نہ اپنی جگہ۔ کیونکہ جسے اپنا کہو وه چھن جاتا
ہے۔ اس لیے وه انسیت سے ڈرنے لگی۔ کوئی قریب آتا تو وه دو قدم پیچھے ہٹ جاتی۔ دل
میں ایک خوف رہتا کہ یہ بھی ایک دن "وقت گزر رہا ہے" کہہ کر چلا جائے
گا۔
اسی دن اسے صبر کا مطلب
سمجھ آیا تھا۔ صبر بڑے بڑے لیکچر نہیں
ہوتے۔ صبر وه خاموشی ہے جو رات کے 2
بجے آتی ہے، جب گھر سو رہا ہو اور تم جاگ رہے ہو۔ صبر یہ ہے کہ سینے میں دریا بہہ
رہا ہو اور چہرے پر سکون ہو۔
اس دن کے بعد دنیا کے ہر
خسارے نے ہیر کے سامنے سر جھکا دیا۔ فراک
پرانا ہو جائے تو کیا؟ جوتا ٹوٹ جائے تو کیا؟ گڑیا گم ہو جائے تو کیا؟ جب
سایہ ہی اٹھ گیا ہو سر سے، تو دھوپ کیا کرے گی۔ ہیر نے سیکھ لیا تھا کہ کچھ درد
ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد کوئی درد، درد نہیں۔اسکا ماننا تھا ہر خساره تب تک بڑا
لگتا ہے جب تک اس کے آگے مزید نقصان نہ ہو
!!جائے۔۔۔۔وه آٹھویں جماعت کی ہیر دوسروں کو
دلاسہ دینا جان گئ تھی۔۔۔
کچھ وقت کے بعد ہیر صفائی کر رہی تھی تو اسے
بابا کی پرانی ڈائری ملی ۔ وہی ڈائری جو بابا کی میز کے دراز میں بند پڑی تھی۔ اس
کے کونے پر مدھم سیاہی سے لکھا تھا " میری ہیر، مجھے تم پر بہت فخر ہے"۔
ڈائری کے ساتھ وه بوسیده سا کارڈ ملا جو اس نے کبھی
Father' day
پہ بنایا تھا۔۔جو سفید
سے سرمئی
رنگ میں بدل چکا تھا۔کونے
مڑ چکے تھے ۔۔سیاہی مدھم ہو چکی تھی ۔۔۔
ہیر نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کا اگلا مرحلہ دیکھا تو اس میں" میرے ارمان
" عنوان لکھا تھا "میری ہیر، جب
تم بڑی ہو کر ٹاپر بنو گی تو میں
سب کو بتاؤں گا کہ یہ میری
بیٹی ہے۔ تمہارے خواب میرے خواب ہیں"۔ وه
تحریر پڑھ کر اسی کمرے کے
فرش پر بیٹھ کر روئی۔ مگر یہ آنسو پہلے
والے نہیں تھے، یہ والے
آنسو طاقت والے تھے۔ اس دن کے بعد ہیر نے فیصلہ کیا کہ اب وه ہر بچے کو بتائے
گی اب اس کے پاس بابا کے الفاظ تھے اور
الفاظ کبھی نہیں مرتے
اس دن کے بعد ہیر نے
ہمدردی مانگنا چھوڑ دی۔ وه خود طاقت بن گئی۔ دنی ا نے اسے یتیم کہا، اس نے خود کو
فوج بنا لیا۔ کتابیں اس کا ہتھیار تھیں اور راتیں اس کی جنگ۔ وه ٹاپ کرتی گئی،
اسکالرشپ لیتی گئی، اور ہر رکاوٹ کو روندتی گئی۔ جب ضلع کا رزلٹ آیا تو پہلا نام
صرف ہیر کا تھا، دوسرا کوئی نہیں تھا۔ اس رات وه خاموشی سے بابا کی تصویر کے سامنے
کھڑی ہوئی اور بولی "بابا، آپ نے کہا تھا بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ آج میں نے
ثابت کر دیا کہ بیٹیاں تاریخ لکھتی ہیں"۔ اس دن کے بعد ہیر کے لیے کوئی خساره
باقی نہ رہا، کیونکہ اب وه مظلوم نہیں تھی، وه مقدر تھی
ہیر نے کالج میں داخلہ لے
لیا اور ہر آتے دن کے ساتھ اس نے ناممکن کو
گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔اس نے آزمائشوں میں خود کو تھکایا اور ہار
نہ مانی۔۔۔۔۔
سیکنڈ ایئر کے امتحان قریب
تھے ہیر کی تیاری عروج پر تھی۔۔۔مگر گھر
کے حالات اور اماں کا ڈیپریشن آڑے آگیا ۔۔۔ہر صبح اسے ایک نئے انداز میں
روکا گیا ہے کہ وه کالج نہ جائے۔۔۔۔کبھی اس سے نوٹس لے لیے گئے اور کبھی گھر کے
کاموں میں الجھا دیا گیا زیاده نہیں تو الفاظ کے تشدد سے اسے یرغمال کیا گیا۔۔۔وه
ہیر آنسو پیتی گئی ۔۔۔۔مگر کان و کان خبر نہ ہونے
!!دی۔۔۔کہ وه کس درجہ اذیت سے گزری ہے ۔۔۔۔۔۔
خود کو خرچ کر کے جو کبھی ماں کی دوا پوری کرتی تو کبھی اپنے داخلے کا انتظام کرتے خود کو ہلکان کرتی۔۔۔ مگر
اس کا حوصلہ ابھی بھی مستحکم تھا ۔۔۔۔خوابوں کا پیچھا کرتے کرتے وه دن آگیا ۔۔۔۔جس
دن اس کے نام کے ساتھ ٹاپر لگ گیا۔۔۔۔
آج اگلے چار سالوں کی
خاموش محنت کے بعد ہیر گریجویٹ ہو گئ تھی۔۔۔اس خاموشی کے پیچھے بہت سے آنسو ،
جگراتے اور طعنے پوشیدهتھے ۔۔۔۔ اس نے پچھلی تمام راتوں میں کئی جنگیں لڑی تھی
تقریب کا دن تھااور اسٹیج پر "ضلع کی بہترین طالبہ - ہیر" کا بڑا بینر
لہرا رہا تھا۔ جیسےہی ہیر کا نام پکارا گیا، پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ گورنر
صاحب نےاپنے ہاتھوں سے اسے شیلڈ پہنائی، مگر وه شیلڈ صرف دھات کا ٹکڑا نہیںتھی، وه
سالوں کی خاموش جنگ، بے شمار راتوں کی جاگ اور آنسوؤں کاتمغہ تھی۔ ہیر نے جب مائیک
ہاتھ میں لیا تو اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر لہجے میں ایک عجیب مضبوطی تھی۔ ایک
لمحے میں اس کی آنکھوں کے سامنے وه سب دن گھوم گئے جب اس کے نوٹس چھین لیے جاتے
تھے، جب چھت پر بیٹھ کر کتابیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی تھیں، اور جب لوگ کہتے تھے
"تمہیں پڑھ کر کیا ملنا ہے"۔ اس نے دھیرے سے کہا، "یہ شیلڈ میری
نہیں ہے۔ یہ ہر اس ماں کی ہے جو بیٹیوں کے خوابوں پر یقین رکھتی ہے، ہر اس استاد
کی ہے جس نے کہا تھا 'بیٹا تم کر لو گی'، اور یہ میرے بابا کی ہے جنہوں نے مجھے
سکھایا کہ یتیمی کمزوری نہیں طاقت ہے۔" پھر وه ایک لمحے کو رکی، آسمان کی طرف
دیکھا اور بس اتنا کہا
"الحمدللہ"۔ اس
ایک لفظ میں تکلیف کا شکر تھا، کامیابی کا شکر تھا، اور ان سب کا شکر تھا جنہوں نے
کہا تھا "تم نہیں کر پاؤ گی" کیونکہ انہی کی وجہ سے آج ہیر نے ثابت کر
دکھایا تھا۔ شیلڈ اس کے ہاتھ میں تھی مگر سر جھکا ہوا تھا، کیونکہ ہیر سمجھ چکی
تھی کہ اصل کامیابی شہرت نہیں بلکہ شکر گزاری ہے۔
ہیر صبح سویرے اٹھی تو دل
بہت گھبرا رہا تھا۔ آج اس کا انٹرویو تھا "قلم گھر" پبلشنگ ہاؤس میں۔ یہ شہر کا سب سے
بڑا اداره تھا جہاں بچوں کی کتابیں چھپتی تھیں۔ ہیر نے اماں سے دعا کروائی، اپنا
سب سے ساده مگر صاف ستھرا سوٹ پہنا اور گھر سے نکل گئی۔ انٹرویو والے کمرے میں دس
لوگ پہلے سے بیٹھے تھے۔ سب کے چہرے پر تجربے کی چمک تھی اور ہیر وہاں سب سے نئی لگ
رہی تھی۔ جب اس کی باری آئی تو صاحب نے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ تمہارا تجربہ کیا
ہے۔ ہیر نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور پھر دھیرے سے کہا کہ سر میرے پاس
ڈگری کے علاوهکوئی بڑا تجربہ نہیں ہے لیکن پانچ سال سے میں پارک میں غریب بچوں
کوفری پڑھاتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ ایک بچہ کہانی میں کیا ڈھونڈتا ہے۔
صاحب نے اس کی لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی کہانی
اٹھا کر پڑھی۔ دو منٹ بعد انہوں نے سر اٹھا کر پوچھا یہ کس کے لیے لکھی تھی۔ ہیر
کی آواز بھرآئی اور وه بولی بابا کے لیے۔ وه ہمیشہ کہتے تھے کہ اگر بیٹی پڑھ لکھ
جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ کمرے میں ایک
لمحے کے لیے سناٹا چھاگیا۔ پھر صاحب مسکرائے اور بولے کل سے آ جانا۔ نوکری تمہاری
ہے۔ہیر باہر نکلی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر سکون تھا ۔جیسے ہی اس
نے موبائل آن کیا ۔۔۔اور اک میسج اپنے بابا کے نمبر پر سینڈکر دیا جو گزشتہ نو
سالوں سے بند تھا۔۔۔۔آپ کی ہیر کمزور نہیں ہے بابا۔۔۔۔وه آپ کے تمام وعدے سچ کر دے
گی ـ آپکا فخر ہیر حشمت علی۔۔۔ ۔۔۔۔شام کو جب وه گھر پہنچی تو سب سے پہلے اماں
کے گلے لگی۔ اماں نے پوچھا کیا ہوا بیٹا۔ ہیر نے ہنستے ہوئے کہا اماں نوکری لگ گئی
ہے۔ اب ہم اپنا کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر لیں گے۔ آپ کے خوابوں کی تعبیر ہیر
سے فقط کچھ قدم دور ہیں ۔۔
اس رات ہیر بہت دیر تک
جاگتی رہی۔ چھت پر بیٹھ کر آسمان کو دیکھتی
رہی اور سوچتی رہی کہ زندگی بدل جاتی ہے۔ہمت نہیں دم توڑنی چاہئے ۔۔۔۔
زندگی معمول پر رواں دواں تھی ۔۔۔۔۔وه وقت
سے پہلے اپنے کام پر پہنچنے کی عادی تھی
۔۔۔۔
قلم گھر کی چوتھی منزل پر
بڑی بڑی کھڑکیوں سے روشنی چھن کر اندر
آرہی تھی ۔۔۔
میز پر ایک اعلیٰ سالیمپ
جل رہا تھا جس کی زرد روشنی اس کے چہرے پر
پڑ کر اسے اور بھی نرم کر رہی تھی۔ سامنے کھلی ہوئی ڈائری تھی اور ہاتھ میں سیاہی
والا قلم۔ وه کچھ لکھ رہی تھی۔ لکھتے وقت اس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن پڑ جاتی تھی
جیسے وه ہر لفظ کو دل سے تول رہی ہو۔ بالوں کی ایک لٹ بار اس کے گال پر آ گرتی اور
وه اسے کان کے پیچھے لگا دیتی۔ سفید کرتے پر ہلکے فلورل دوپٹے کا کناره میز پر
بکھرا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، نہ تھکن کی نہ بے چینی کی،
بس ایک سکون تھا جو تب آتا ہے جب انسان اپنا
خواب کاغذ پر اتار رہا ہو۔ جب وه رک کر سوچتی تو قلم کو ہونٹوں سے لگا لیتی۔ اس
وقت اس کے
چہرے پر معصومیت اور سنجیدگی ایک ساتھ نظر آتیں۔
باہر ہلکی بارش ہورہی تھی اور کھڑکی کے شیشے پر پانی کے قطرے بہہ رہے تھے۔ ہیر
نےسر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر دوباره لکھنے لگی۔ اسکی تحریر میں
لفظ نہیں، اس کی ساری عمر کی امیدیں بہہ رہی تھیں۔ لیمپکی روشنی میں وه اتنی
خوبصورت لگ رہی تھی جیسے کوئی شاعر اپنیسب سے پسندیده نظم لکھ رہا ہو۔۔اج اسے یہاں
کام کرتے چھبیسواں دن تھا ۔۔نورِ سخن پبلیکیشنز" کی عمارت میں ہلچل تھی فون
بج رہے تھے ۔بھاری" قدموں کی چاپ ۔۔ سامنے کاغذوں کا ڈھیر اور ٹھنڈی ہو چکی
چائے کا کپپڑا تھا۔ وه ایک یتیم بچی کی کہانی ایڈٹ کر رہی تھی آنکھیں تھکی ہوئیتھیں مگر قلم نہیں رک رہا تھا۔
اچانک دروازے پر قدموں کی آواز آئی۔ ہیرنے گھبرا کر سر اٹھایا تو سامنے زمان شاه
کھڑا تھا۔ ۔۔پر کشش سا انسان ، کالے کوٹ میں، ہاتھ میں ایک موٹی فائل، اور چہرے پر
ہمیشہ والی سختی۔ پورے دفتر میں جس کے نام سے لوگ کانپ جاتے تھے وه اس وقت اس کے
سامنے کھڑا تھا۔ ہیر جلدی سے کھڑی ہوئی اور لڑکھڑاتی آواز میں بولی
""سر آپ؟
زمان شاه نے بغیر کچھ کہے میز پر پڑی فائل
اٹھائی، دو صفحے پلٹے اور پھر ہیر کو گہری
نظروں سے دیکھا۔ کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔ "پھر وه دھیمی مگر دو ٹوک
آواز میں بولا "نام؟ ہیر نے کہا
"ه۔۔ہی۔۔۔ہیر سر" ۔
زمان شاه نے سر ہلایا جیسے
نام ذہن میں محفوظ کر لیا ہو۔ "کام اچھا کر
رہی ہو" یہ چار لفظ کہہ کر وه مڑا اور دروازے تک جا کر رک گیا۔ پیچھے
مڑے بغیر بولا "کل آٹھ بجے۔ لیٹ مت ہونا"۔ اور وه چلا گیا۔
ہیر وہیں کرسی پر بیٹھ
گئی۔ دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ آج پہلی بار اسے
لگا دفتر میں کوئی ایک شخص ہے جو اس کی محنت دیکھ رہا ہے وه خاموشی سادھے
ہوئے تھی ۔۔۔وه زیاده ہمکلام نہیں ہوتی تھی ۔۔۔محض ضرورت کے وقت جواب دیتی تھی ۔۔۔وه اپنے کام میں
لگاؤ رکھتی تھی
!!۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
ہیر فائلیں لے کر باہر
بینچ پر آئی تھی کیونکہ اندر شور تھا۔پیچھے سے آواز "آئی: "یہاں کیا کر رہی ہو؟
ہیر پلٹی۔ زمان شاه۔۔۔
ہاتھ جیب میں، چہره سنجیده۔ہیر گھبرا گئی: "س... سر بس تھوڑا سکون چاہیے تھا۔۔اندر شور بہت تھا
"زمان شاه: "تمہیں پتہ ہے لوگ مجھ
سے کیا کہتے ہیں؟
"ہیر: "نہیں سر
"زمان شاه:
"کہتے ہیں زمان شاه کا دل پتھر کا ہے۔ وه کسی کو نہیں دیکھتا ۔ وه رکا۔ پھر ہیر کی طرف دیکھا ۔
"مگر میں ہر اس شخص کو دیکھتا ہوں جو ہار مانے بغیر لڑ رہا
ہو۔"
ہیر نے نظریں جھکا لیں
۔
زمان شاه: "اس دفتر میں سب نوکری کرتے
ہیں ہیر۔ تم خواب بیچتی ہو۔ اور
"خواب بیچنے والے
ہمیشہ امیر ہوتے ہیں۔ چاہے جیب خالی ہی کیوں نہ ہو۔
"ہیر: سر کی آنکھیں
نم ہو گئیں۔ "سر میں... میں صرف لکھنا چاہتی ہوں ۔ زمان شاه:ایک قدم قریب آیا۔ آواز دھیمی ہو گئی
۔ تو لکھو۔ بے فکر ہو کر لکھو۔ جب تک میں یہاں ہوں، تمہارے قلم پر کوئی" "انگلی نہیں اٹھائے گا۔ یہ زمان شاه کا
وعده ہے۔
ہوا چل رہی تھی۔ ہیر نے
پہلی بار محسوس کیا کہ طاقت کے ساتھ نرمی بھی
ہو سکتی ہے۔ وه چلا گیا ۔
ہیر وہیں کھڑی ره گئی
۔۔۔دل کی گرمی کے ساتھ ۔ ۔ ہیر کے ڈوپٹے
کا کونا اس کی مٹھی میں زور سے قید تھا ۔۔ ۔
زمان شاه جیسے اس لڑکی کی
محنت کو سراه کر زیاده تسکین حاصل کرت ا تھا۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اس کے قدم خود بخود
ہیر کے کیبن کی طرف چلنے لگتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ہیر
!!وه چونکی۔۔ ۔
سب چائے کی بریک پہ ہیں اور تم لائبری میں کیا
کر رہی ہو؟
"زمان شاه:"تم یہاں کیا ڈھونڈ رہی
ہو؟
ہیر: "سر... وه جو
لکھاری مر جاتے ہیں نا، ان کی کتابیں یہاں دھول کھاتی ہیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر کوئی ان کو پڑھ لے
تو وه دوباره زنده ہو "جائیں گے۔
زمان شاه نے ایک لمبی سانس لی۔ شیلف پر ہاتھ
پھیرا ۔
زمان شاه:"لوگ سمجھتے ہیں میں طاقت سے سب
کچھ خرید سکتا ہوں ۔
"عمارتیں، کمپنیاں، نام۔
وه رکا۔ پھر ہیر کی آنکھوں میں دیکھا ۔
"مگر میں آج تک ایک چیز نہیں خرید
سکا۔"
"ہیر: "کیا سر؟
زمان شاه: "وه جنون... جو تمہاری آنکھوں
میں ہےکتابوں سے بات کرنے "والا جنون۔
ہیر کی آنکھوں میں پانی
آ گیا ۔
زمان شاه: آواز اور دھیمی ہو گئی ۔
ہیر۔ دنیا تم جیسے لوگوں
کی وجہ سے چل رہی ہے۔ ہم جیسے لوگ صرف"
"عمارتیں بناتے ہیں۔ تم اس میں جان ڈالتی
ہو۔
تو اپنا سر مت جھکانا۔
کبھی نہیں۔ کیونکہ جس دن تم نے سر جھکا دیا، اس" "دن میں سمجھ جاؤں گا کہ میں غلط تھا۔
ہیر کا دل زمان شاه کی
باتوں پہ نرم پڑنے لگا ۔۔۔۔۔اور زمان شاه تو بہت پہلے ہے اس کے سچے دل سے متاثر ہو گیا تھا لیکن وه
اپنا وقار قائم رکھتے ہوئے یہ بات لبوں پر نہیں لا سکتا تھا۔۔۔۔
شام کو اس کی گھر پڑی زرد
ڈائری اس سے زمان شاه کا پوچھنے لگی تھی
۔۔اور وه خود کو مزید مضبوط بنانے
کے لیے اس کی باتوں کا سہارا لیتی تھی ۔۔
وه انسیت سے چڑھ جانے والی
ہیر نہیں معلوم کیوں اس کے الفاظ سے بھاگ نہیں پا رہی تھی۔
اور زمان شاه ہر لمحے اس کے تخیل میں مقید ہوتا
جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
سوموار کی صبح ، وه اپنا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی
تھی کہ کوئی ملازم آیا ۔ میڈم جی آپ کو شاه صاب نے بلایا ہے جی ۔ان کے
کیبن میں چلی جائیں جلدی جائیں میڈم جی وه
بہت غصے والے ہیں جی ۔
ہیر کالے کھسے والے صاف سے پاؤں اٹھاتی تیز تیز
چلی گئی ۔
Heer:
come in sir?
zamaan
Shah : sure!
Have a
seat plz.
ہیر نظریں جھکائے
ہوئے پوشش والے میرون صوفے پر بیٹھ گئی
۔۔۔ سیاه جوڑے میں ملبوس وه لڑکی ، سفید
گردن پر نزاکت سے رکھا ہوا سیاه باریک
ڈوپٹہ کچھ الگ ہی منظر کشی کر رہا
تھا۔۔۔۔بالوں میں لگے کیچر کو عجیب شرارت
سوجھی کہ سامنے والی زلفیں آزاد کردیں جو ہیر نے کام کرتے سمے جبراً قید کی
تھیں ۔۔۔گردن کا تل جیسے ڈٹ کر بول رہا تھا۔۔۔۔جھکی آنکھوں پہ ہلکا
سا مسکاره زمان شاه کو الجھارہا تھا۔۔۔۔۔
باتوں کے ساتھ جس کی ادائیں جان لیوا ہو اس کے
سحر سے کوئ کیسے نکلے۔۔۔۔
وه رعب دار زمان شاه
کھڑا ہو ا
ہیر: Good morning sir
زمان شاه : ?How's going
ہیر: ....So
good زمان شاه : you're an honest employee, I noticed...
Any
plan ? if you have for this company ? ہیر: Sir, this is so satisfying..and surely
I'll share any type of suggestion regarding it's high output. زمان شاه : ok ...any question ہیر : not any single question...just a
request
if I
.....can take overtime... ?
....زمان شاه دبکی ہوئی
ہیر کو دیکھ رہا تھ ا کیوں ہیر ؟
!ہیر : بڑی ہمت سے ...دراصل میرے خواب بہت مہنگے ہیں
سر زمان شاه : سنجیدگی کے ساتھ نرمی۔۔ اوکے ! کیا خواب ہیں ؟
میڈم ہیر آپ کے؟
ہیر :
آفس میں سناٹا چھا گیا۔۔۔ ۔
زمان شاه :سنو ۔۔۔!! ہیر
اوور ٹائم اپرووڈ ۔۔۔۔لیکن تم ایکسٹرا کام اپنے کیبن پر نہیں کرو گی۔۔تم اکیلی بیٹھی کر کام کرو گی تو
غیر محفوظ ہونے کا خیال میرے اندر ہوگا۔۔۔اور اس ادارے کا ایک ایک فرد زمان شاه کی
زمہ داری ہے۔۔تمیں میرے ساتھ پروجیکٹ، فائلز چیک کیا کرو گی ساتھ تم مزید ایڈیٹنگ سیکھو گی اور ہم دیکھیں
گے کہ ہمارے معاشرے کو کس قسم کی کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہے جو نئی نسل کا ذہن بنا دیں ڈیل؟
!!ہیر :
ہچکچاتے ہوئےمگر پر عزم ۔۔ڈیل
سر۔۔۔۔ ۔
اگلے روز ہیر اوور ٹائم کے
لیے سر کے کیبن پہنچ جاتی ہے ٹی پنک ڈریس
سلکی بالوں کا جوڑا مضبوطی سے کیا
ہوا جیسے آج کچھ فتح کرنے آئی ہو۔۔۔۔
مگر ہلکا گلابی لپ گلوز اس
کی شان بڑھا رہا تھا۔آنکھیں ہمیشہ کی طرح
سہمی ہوئی تھیں ۔۔۔اور ہونٹ خاموش جو خود سے بولنے کا تکلف نہیںکرتے
تھے۔۔۔۔
زمان شاه کو اس سے نظر
ہٹانا مشکل سا لگنے لگا۔۔۔ ۔
ہیر بہت دلجمعی سے کام کرنے لگی اس نے زمان
شاه کا کام نہایت آسان کر دیا ۔۔۔۔دنوں ۔۔ہفتوں اور پھر مہینوں کی محنت رنگ لانے
لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
فائلوں کے ڈھیر کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آنکھوں کے
نیچے ہلکے سائے ۔ زمان شاه:کوٹ اتار کر، آستینیں فولڈ کی ہوئی۔ سامنے بیٹھا فائل
دیکھ رہا تھ ا
منٹ سے خاموشی تھی۔ بس
کاغذ پلٹنے کی آواز
زمان شاه: نے سر اٹھایا ۔
"ہیر۔"
"ہیر:"جی سر
"زمان شاه: "تھک گئی ہو؟
"ہیر: جلدی سے سر
ہلایا "نہیں سر زمان شاه: ہلکا سا
مسکرای ا
"جھوٹ مت بولو۔ تھکاوٹ آنکھوں سے نظر آ رہی
ہے۔"
وه اٹھا۔ سائیڈ ٹیبل سے
بسکٹ کا ڈبہ اور پانی کی بوتل لایا۔ ہیر کے سامنے
رکھا۔
"زمان شاه: "کھاؤ۔ دماغ کو فیول
چاہیے ۔
"...ہیر:"سر میں
زمان شاه: ہاتھ سے روک دیا ۔
"بحث نہیں۔ آرڈر ہے۔"
ہیر نے ایک بسکٹ لیا۔ خاموشی سے کھانے لگی
۔ زمان شاه: فائل بند کر کے کرسی سے ٹیک
لگا کر بیٹھا ۔
"بتاؤ۔ معاشرے کو کس کتاب کی ضرورت
ہے؟" ہیر: نے پانی کا گھونٹ لیا۔
حوصلہ کیا ۔
سر... ہمیں ایسی کتاب
چاہیے جو ناکامی کو شرم نہ بنائے ۔ جو 35
روپے والے کو بتائے کہ وه بھی بادشاه بن سکتا ہے ۔
"جو لڑکیوں کو بتائے کہ چولہا اور قلم
دونوں سنبھالے جا سکتے ہیں ۔ زمان شاه:
چند سیکنڈ اسے دیکھتا رہا ۔
:پھر آہستہ سے بولا نام کیا رکھو گی اس کتاب
کا؟" " ہیر: نے سوچا۔ پھر نظریں ملا کر کہا"ارمان میرے
"زمان
شاه: نے قلم سے ٹیبل پر ہلکا سا تھپکا دیا۔
"ڈن۔ یہی نام ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
ہیر کی محنت اور گھر جاکہ زمان شاه کا بڑھتا ہوا تزکره ۔۔۔۔اس کی ضعیف ماں کو اکسا رہا تھا کہ وہ اک بار CEO کو ملنا چاہتی ہے
۔۔اک مدت کے بعد ہیر کو لگنے لگا وه کسی کے پاس
بیٹھ کر محفوظ....
محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔لگنے
لگا تھا کوئی اس ہیر کو اس کے بابا کی طرح سننے لگا تھا۔۔۔جو اس کے ذہن کی ہر بات
پہ آمین کرنے لگا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
اج ہیر کی کتاب شائع ہونے
جارہی تھی اور زمان شاه نے اس سلسلے میں
ایک بڑے درجے کی ورکشاپ منعقد کی تھی جس میں ہیر کو پریزنٹ کرنا تھا
ایک لمبی میز ، 16
کرسیاں جن پہ سینیئر آفیسر براجمان تھے۔۔۔۔سامنے
والی کرسی پہ زمان شاه نے جگہ سنبھالی ۔۔۔۔ہیر کی دھڑکن زور سے چل رہی
تھی۔۔۔ایک جانب پروجیکٹر اور سامنے وائٹ بورڈ۔۔۔۔
زمان شاه نے گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا کہ شروع
کیا جاے وه پستہ کلر کے لمبے کرتے میں اک
اپسره لگ رہی تھی بالوں کی ڈھیلی سی چٹیاں
، چہرے پر شاید زیاده ہی معصومیت ، ڈوپٹے کو جیسے نرم ہاتھوں سے ٹکایا گیا ہو
!جی سر
! ہیر : س۔۔سلام
میرا نام ہیر ہے۔۔۔میں آپ
کے سامنے اک ایسا سفر پریزنٹ کرنے آئی ہوں
جس نے مجھےہر لمحے کے ساتھ اک نئی
طاقت دی۔۔۔جو کتاب میں آج پبلش کرنے جا رہی ہوں ۔۔یہ محض اک عنوان نہیں۔۔۔۔۔یہ
میرے بابا کے لکھے ہوئے ہاتھ کا حسرت بھرا لفظ تھا ۔۔۔۔اس لفظ نے سالوں میرا
انتظار کیا کہ کبھی میں بڑی ہو کر ان ادھورے ارمانوں کو مکمل کروں گی پیچھے سلائیڈ
کھلی ہوئی تھی " کتاب کا نام:
"ارمان میرے
"
مصنفہ: " ہیر
ناشر:شاه پبلشرز - Zaman Shah Group
پہلا ایڈیشن: اپریل2025 زبان:اردو
صفحات:248
ہارڈ کور - 1200 :Rs.قیمت
Info: 978-969-XXXX-XX-X
کور ڈیزائن: سفید بیک
گراؤنڈ، سنہری ٹائٹل۔ نیچے ایک ٹوٹا ہوا قلم اور اس سے اٹھتی ہوئی روشنی۔ وه لمحے بھر کو رکی۔۔ ۔
اچانک سے سرگوشی ہوئ۔۔۔۔ ۔
Impressive , beauty with brain وه
گھبرائی ۔۔۔۔مگر اس جاه و جلال والے شخص نے آنکھ بچا کر اسے خاموشی سے اشاره دیا کہ وه بولتی رہے ۔اور
آنکھوں سے نرم مسکراہٹ دی۔۔اس لمحے لگا جیسے کسی نے آگے بڑھ کر اس کے نازک سے وجود
کو تھام لیا ہو ۔۔۔جیسے کسی نے کہ دیا ہو کہ ہیر تمہارے سب ہی ڈر مات دے جائیں گے
ہیر جیسے روانی سے بولنے لگی تھی ۔۔ ۔
یہ 248 صفحات
کی کتاب، اپنے اندر اک الگ ہی ولولہ سموۓ ہوئے تھی پروجیکٹر کی مدھم روشنی میں دھول کے ذرے تیر
رہے تھے ۔ سینیئر آفیسر۔ سامنے زمان شاه۔
پتھر کا چہره۔
...اور بیچ میں ہیر ۔
پستہ کلر کا کرتا پسینے
سے بھیگ چکا تھا ۔ بالوں کی ڈھیلی چٹیاں
کانپ رہی تھیں ۔
ہونٹ کانپ رہے تھے۔ لیکن
آنکھوں میں وه آگ تھی جو سالوں کی محرومی
ہیر: نے آنکھیں بند کیں ۔
دل اتنی زور سے دھڑک رہا
تھا کہ لگ رہا تھا سینے سے باہر نکل آئے گا ۔
"...سر"
آواز نکلی تو لگا جیسے
سالوں کا بوجھ ایک ساتھ اتر گیا۔248 صفحات
نہیں
"...ہیں یہ سر اس کی آواز بھر آئی
یہ 248 راتیں
ہیں۔ وه راتیں جب میں نے فرش پر بیٹھ کر لکھا۔"
کیونکہ چارپائی بیچ دی تھی
۔ یہ 248
دعائیں ہیں ۔
"وه دعائیں جو امی نے آٹا گوندھتے ہوئے
میرے سر پر ہاتھ رکھ کر مانگیں ۔ اس کا گلہ بند ہو گیا۔ اس نے پانی کا گھونٹ لیا
۔ کلک ۔
:سکرین پر سیاه لکھائی کانپ رہی تھی میں نے کامیابی نہیں مانگی تھی۔"
میں نے بس اندھیرے میں
ایک چراغ مانگا تھا۔
"تاکہ گر کر بھی راستہ ڈھونڈ سکوں ۔ ہیر: نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ پاؤں لڑکھڑائے ۔
وه ہنسی۔ آنسوؤں کے ساتھ ۔
سر، اس کتاب کا ہر لفظ ایک زخم ہے۔"
"اور ہر زخم پر میں
نے خود مرہم رکھا ہے ۔ اس کی انگلیاں کتاب پر کانپیں ۔
اس میں _تلخ ماضی_
ہے..۔اورتشریح ہے اک لائن کی "سنو ہیر تم خوش" "قسمتی کا ستاره ہو
اس میں اس لڑکی کی کہانی
ہے جو پڑھنے کے لیے سب کے سونے ک ا انتظار کرتی تھی ، وه لڑکی درمیان سے پھٹے نوٹس
کے کناروں کو اک دوسرے کے قریب لا کر فقرے کو پورا کرتی تھی۔۔۔
ہال تالیوں سے گونج اٹھا ، سب ہی بڑے لوگ اش اش کت اٹھے CEO نے اعلانیہ طور پر کہا۔۔۔ہیر
you are really exceptional........
you nailed it ...
آپکی کتاب آج ہی دفتر میں شائع ہونے جائے گی؟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج ہیر کی آنکھیں حیران تھیں کہ آج
ان کو کسی محرومی پہ نہیں رلایا گیا آج
آنسو خوشی کے تھے۔۔۔۔ وه جاتے ہوئے قبرستان ہو لی فاتحہ خوانی کی
اور ٹپ ٹپ آنسو ایک قبر پر گرنے لگے ۔۔۔۔بابا
جان۔۔۔؟آپکی ہیر آئی ہے
وه تین سال کی ہیر جو اپنی لڑکھڑاتی زبان میں
ساری شکایتیں لگاتی تھی ،
!!وه ہیر آج 23
سال کی ہوگئی ہے بابا ۔۔۔لفظ لڑکھڑا گئے ۔۔آواز ٹوٹ گئی۔۔۔ وه۔جو آپکے بازو پہ
سوجاتی تھی ۔۔۔۔۔اس نے سالوں سے سوکر نہیں
!دیکھا۔۔۔۔۔۔نیند کی مقروض ہے آپکی لاڈلی
:اہک بار تو بول کر کہ دیں
!!...میری ہیر مجھے تم پر فخر ہے
عجیب سکوت سا طاری ہوگیا
اس نے قبر سے کچھ مٹی اٹھالی اور سر کی
سائیڈ پہ بوسہ دے دیا فی امان ﷲ ۔۔ ۔
!ایک دن آپ سے ضرور ملے گی ہیر حشمت علی !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
گھر آتے ہی خبر سنائی تو
ماں اسے دیکھ کر جی بھر کر رو نے لگی ۔۔۔۔ آج
یہ ہیرا روشنیوں کے راستے ہموار کررہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
ہیر نے فون آن کیا تو ایک نوٹیفیکیشن سکرین پر
چمکا ۔
CONGRATULATIONS HEER HASHMAT ALI❤
Aj
kisi na tareekh raqam krdi , Aaj kisi na 16 tajarba kaar logon ko laa-javaab
kardia....
Meri
treat kidr hai madam jee?
ہیر نے خوبصورت مسکراہٹ دبائی اور تیزی سے ٹائپ
کردیا ۔۔ ۔
koi tahammul
sa guide kry tw raasty khud e mil jaty
Hain...or Meri Jeet ka credit shayad apko
jaata hai....
Ap
kahiye Sir...apky hukam ki ita'at hogi
:پھر فون روشن ہو ا
Hukam?
kal sham 7 bajy ...Shah Royal Hotel...Top floor,Table number 4 koi
maroon jora ho , apky honour màin celebrate krain
gy kuch
Maa ji
ko sath ly aana
booking done hai, late mat hona
ہیر ایک ہی سانس میں سارا پڑھ گئی ۔۔اس کے
سانس اکھڑ گئے۔۔ساری رات ہیر اس خوشی میں
سو نہ پائی اماں کو بھی آگاه کردیا کہ صبح سر نے
ہمیں ہوٹل بلایا ہے
ماں ڈوپٹہ اٹھا کر
دونوں کو بھر بھر دعائیں دینے لگی۔۔۔۔!!
لیکن بابا کے جانے کے بعد ماں ایسی جگہوں پہ
جانے سے پہلے ہی گھبرا جایا کرتی تھی
بیٹی تم جاؤ اور یاد
رکھنا تم میری دعاؤں کے حصار میں ہو ۔۔۔۔!!
شام کا آخری سایہ کھڑکی
سے رخصت ہو رہا تھا۔
ہیر کے چھوٹے سے کمرے میں خاموشی تھی۔ بس دل کی
دھڑکن اور امی کی دعا۔ الماری کھلی۔
بلیک کرنکل کا فراک۔ ساده۔ مگر اس میں سالوں
کی محنت کی خوشبو تھی۔ میرون شفون کا
دوپٹہ۔جیسے شام کا آخری سورج کپڑے میں قید ہو گیا ہو۔ ہیر نے آئینے کے سامنے کھڑے
ہو کر خود سے پوچھا:
"کیا
میں... اس قابل ہوں؟"
امی پیچھے سے آئیں۔
بیٹی کے بال سیدھے کیے
دو لٹیں چہرے پر چھوڑ دیں۔ "یہ تمہاری
پہچان ہیں بیٹا۔ مت چھپانا۔" ہیر نے سلیک ہیئر اسٹائل بنایا اور باریک زلفوں
کو چہرے پہ شرارت کرنے کو چھوڑ دیا
کاجل کی باریک لکیر۔
لبوں پر ہلکی سی نمی۔
اور گردن پر وه تل... جو پہلے دن سے زمان شاه
کو الجھنن میں مبتلا کررہا تھا
امی نے میرون دوپٹہ اس کے کندھے پر رکھا۔
کانپتے ہاتھوں سے۔ "میری ہیر۔ آج تم
جیت کر جا رہی ہو۔ سر اٹھا کر جانا۔" ہیر نے آنسو پی لیے۔ اور نکل گئی۔ رات 7:03۔
شاه رائل ہوٹل۔ ٹاپ فلور۔
ہیر نے سیاه ہیلز میں جکڑے گورے پاؤں کی چاپ
سے پورے فلور کو رونق بخشی دی
لفٹ کا دروازه کھلا تو روشنی نے آنکھیں چندھیا
دیں۔ پیانو کی دھن۔ کرسٹل کا جھمک۔ اور
درمیان میں..
میز نمبر 4
ایک موم بتی۔ ایک میرون
گلاب۔ اور ایک شخص۔ زمان شاه۔
بلیک سوٹ میں وه رات لگ
رہا تھا۔ سنجیده۔ خاموش۔ اس نے سر
اٹھایا۔ اور وقت رک گیا۔
وه دروازے میں کھڑی تھی...
"ہیر۔"
بلیک فراک میں وه رات
کا سکوت تھی۔
میرون دوپٹہ اس کے
کندھے سے پھسلتا ہوا... جیسے کوئی دعا اتر رہی ہو۔ بالوں کا سٹریٹ ہونا۔ دو آزاد لٹیں۔ آنکھوں
میں تھکن اور عزت کی ملی جلی روشنی۔
لب بند تھے۔ مگر ان کی
خاموشی میں ہزار کتابیں بول رہی تھیں۔ زمان شاه کھڑا ہوا۔ بہت آہستہ۔
اس کی نظریں ہیر کے
چہرے سے ہٹی ہی نہیں۔ "تم..." وه بولا تو آواز بھر آئی۔
"تم
واقعی آ گئی۔" ہیر نے سلام کیا۔ آواز کانپ رہی تھی: "السلام علیکم
سر۔" وعلیکم السلام۔"
وه ایک قدم آگے بڑھا۔
میز سے میرون گلاب اٹھایا۔ "یہ گلاب تمہارے لیے نہیں ہے ہیر۔" وه رکا۔ سانس لی۔
"یہ
اس عورت کے لیے ہے... جس نے دنیا کو بتایا کہ محرومی انسان کو توڑتی نہیں، تراشتی
ہے"
ہیر کا دل لرز گیا۔ اس
نے کانپتے ہاتھوں سے گلاب لیا۔ زمان شاه نے کرسی کھینچی۔ "بیٹھو۔"
خود بھی بیٹھا۔ پھر میز
پر کہنیاں رکھ کر، بہت گہری نظروں سے ہیر کو دیکھا۔
"پتہ
ہے ہیر؟" اس کی آواز دھیمی تھی۔ "میں نے زندگی میں بہت کامیاب لوگ
دیکھے۔ سوٹ والے۔ گاڑی والے۔"
وه رکا۔ "مگر
تم... تم پہلی لڑکی ہو جسے دیکھ کر لگا کہ کامیابی کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔"
ہیر نے نظریں جھکا لیں۔
آنکھیں نم ہو گئیں۔ زمان شاه نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
"پی
لو۔ تم تھکی ہوئی ہو۔" سر میں..." ہیر نے بمشکل کہا۔
"شش۔" زمان شاه نے ہاتھ سے روکا۔ پھر مسکرایا۔ پہلی بار۔
دلی مسکراہٹ۔
"آج
کوئی 'سر' نہیں ہے۔ آج صرف زمان ہے۔ اور سامنے... _ارمان میرے_ کی مصنفہ۔"
اس نے موم بتی کی طرف
اشاره کیا۔
"یہ
لو۔ بتاؤ۔ اس کتاب کا وه ایک جملہ... جو لکھتے ہوئے تم خود رو پڑی تھیں؟"
ہیر نے گلاس ہاتھ میں
پکڑا۔ گہری سانس لی۔ اور آہستہ سے
بولی:
"میں
نے محل نہیں مانگا تھا سر۔ میں نے بس اندھیرے میں ایک چراغ مانگا تھا۔۔۔ تاکہ گر
کر بھی... اٹھ سکوں۔"
جسے بولتے ہوئے اس کی
نظر اس کپکپاتی موم بتی پر ٹکی ہوئ تھی خاموشی۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف موم بتی کی لو ہل
رہی تھی۔ زمان شاه نے آنکھیں بند کیں۔ پھر کھولیں۔ "ہیر۔"
"جی
سر؟"
"تمہیں
پتہ ہے تم کیا ہو؟" وه جھکا۔ آواز
اور دھیمی ہو گئی۔
"تم
اس نسل کی امید ہو۔ جسے سب نے مرده سمجھ لیا تھا۔" ہیر نے سر اٹھایا۔ اس کی
آنکھوں میں پہلی بار ڈر نہیں تھا۔ عزت
تھی۔
باہر شہر چمک رہا تھا۔
اندر ایک لڑکی... اپنی جیت کی خوشبو سونگھ رہی تھی۔۔۔۔۔
ہیر تم نے مجھے میرے
ماضی کی یاد دلا دی ۔۔۔۔تمہاری طرح میں نے بہت کچھ کھویا تھا ۔۔۔۔!!
شاید ہم سب کو اپنی
زندگی میں اک ایسی ہیر کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔!!
ہر جملہ جیسے ہیر کے
اندر اتر رہا تھا
جو گرتے کو تھا م لے
۔۔۔۔وه ہیر ،جو ہار کو ہرا دے ۔۔۔۔!!
وه روانی سے بول رہا
تھا اسے معلوم تھا اگر وه بولتے ہوئے رکا تو ہیر کی جھکی نظریں اٹھ جائیں گی
۔۔۔اور اس کے دھیان میں خلل ہوجاے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وه 23
سال کی دوشیزه پورے کے پورے زمان شاه کو الجھن میں ڈالے ہوئے تھی۔۔۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات 9:20
ڈنر کے برتن ہٹ چکے
تھے۔۔۔۔فقط دو کپ ، کچھ گلاب اور موم بتی کی روشنائیا ں جو خوشیاں منا رہی
تھیں
"تمہیں
پتہ ہے ہیر؟"
زمان شاه کی آواز میں
تھکن تھی۔
"میں
نے 32 سال کی عمر میں دنیا فتح کی۔
مگر 23 سال کی تم نے... مجھے فتح کر لیا۔" ہیر نے سانس روک لی۔
"تم
بولتی نہیں۔ مگر تمہارا دوپٹہ ٹھیک کرنا...
تمہارا پانی کا گلاس
ہاتھ میں پکڑ کر کانپ جانا...
تمہارا ایک آنسو
چھپانا..." وه رکا۔ پھر ہنسا۔ شکستہ
ہنسی۔
"یہ
سب مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتے۔" ہیر میں نے ۔۔۔۔
میں نے ۔۔۔۔۔۔ خود ۔۔۔۔
کو ۔۔۔۔
بہت سمجھایا ہیر
۔۔۔۔روکا بھی ۔۔۔۔۔مجھے لگا تھا میں بتادوں گا تو تم چلی جاؤ گی ۔۔۔
وه پکی عمر کا شخص آج
اک نازک سی لڑکی کے سامنے اتنا کمزور بھی ہو سکتا تھا
ہیر مجھے ریجکٹ کر دینا
، مگر ہیر جانا مت ۔۔۔۔اپنے خواب مت توڑنا ہیر۔۔۔!!
وه اٹھا۔ کھڑکی کے پاس
گیا۔
"میں
CEO ہوں۔ میں فیصلے کرتا ہوں۔"
"مگر
تمہارے معاملے میں... میں خود ایک سوال بن گیا ہوں۔" پلٹا۔ ہیر کے سامنے
آیا۔ فاصلہ 2
قدم کا۔
"23
سال کی دوشیزه۔" اس نے آہستہ
کہا۔
"اور
پورے کا پورا زمان شاه... تمہارے ایک 'نہ' کے ڈر سے کانپ رہا ہے۔"
ہیر نے پہلی بار لب
کھولے۔ آواز کانپ رہی تھی:
"سر...
میں قابل نہیں۔" زمان شاه: نے سر ہلایا۔
"غلط۔"
"قابل
وه ہوتے ہیں جنہیں دنیا چنتی ہے۔"
"تمہیں...
میں نے چنا ہے۔"
اس نے میز سے میرون گلاب
اٹھایا۔ ہیر کے سامنے رکھا۔ "یہ
لو۔"
"نہ
قبول کرو۔ نہ انکار۔ بس... رکھ لو۔
جیسے میں نے تمہاری عزت
اپنے دل میں رکھ لی ہے۔" وه ہلکے سے بولنا لگ گیا رک کر بولا :
"الجھن
میں رہنا اچھا لگتا ہے ہیر۔ کیونکہ الجھن
جس سے ہو...
اس سے محبت ہو جاتی
ہے۔" ہیر نے گلاب اٹھایا۔ کلیجے سے لگایا۔
اور پہلی بار... ہلکی سی مسکرا دی۔ اور پورا زمان شاه... ہار گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موم بتی بجھ چکی
تھی۔
صرف شہر کی روشنی کھڑکی
سے آ رہی تھی۔
زمان شاه: کی آواز
اندھیرے میں گونجی۔ "ہیر...
میری پسندیده مصنفہ
۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے۔"
ہیر کا دل پھڑک اٹھا
۔۔۔۔جیسے ابھی اس کی جان نکل جائے گی ہیر نے سر نہیں اٹھایا۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے
تھے۔ کتاب پر پڑے آنسو کی سیاہی پھیل رہی تھی۔ زمان شاه: نے قدم پیچھے لیے۔
"سمجھ گیا۔" "رکیں"
ایک لفظ۔ کانپتا ہوا۔
مگر پتھر جیسا۔ ہیر نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں سمندر تھا۔ مگر آواز میں... بابا والی ہمت۔
"سر۔"
مجھ ۔۔۔ مجھے ڈر لگتا
ہے ۔۔۔۔
"میں
نے زندگی میں 2 چیزوں سے محبت کی ہے۔"
وه دونوں بڑی بے رحمی سے مجھ سے چھن گئی تھیں سر !
"اگر
آپ تیسرے نمبر پر آنا چاہتے ہیں..."
اس نے سانس روک کر کہا:
"تو
یاد رکھیں۔"
"میں
عزت کے بغیر سانس نہیں لیتی۔"
"اور
محبت کے بغیر..." خامشی چھا گئی زمان
شاه: کا سانس رک گیا۔
ہیر نے میرون گلاب
اٹھایا۔ اس کی 1 پنکھڑی توڑی۔ زمان شاه
کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
"یہ
لیں۔"
"جب
تک یہ پنکھڑی سوکھے گی نہیں...
میں آپ کو ' نہ' نہیں کہوں گی۔"
"اور
جب سوکھ گئی..." اس نے نظریں جھکا لیں۔
"تو
سمجھ جائیے گا... کہ میں ہار گئی۔" سر ۔۔۔۔
میں اک کمزور گھرانے سے
تعلق رکھنے والی وه لڑکی ہو جو اس گھر کی امید ہے ۔۔۔میں دوسروں کے خواب پورے کرنے
کے لیے پیدا ہوئی ہوں ۔۔۔ان کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے ۔۔۔۔میں کانچ کی دکانوں کے
باہر کھڑے غریب بچوں جیسی ہوں سر۔۔۔۔!!
آ۔۔آپ زمان شاه ہیں سر
!!
میری بے بسی کا مزاق مت
اڑائیں سر!!
مسکاره پھیل کر بہنے
لگا تھا ۔۔۔۔
آج ؤه اس بچی کی طرح
روئی تھی جو سرخ لہنگے والی گڑیا کھو کر روئی تھی
دنیا یتیموں کو محبت
نہیں کرنے دیتی سر ۔۔۔۔ہم یہ نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں ۔۔۔۔!!
زمان شاه: پتھر ہو
گیا۔
وه آہستہ سے ہیر کے پاس
آیا۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ 32
سال کا زمان شاه... ایک 23 سال کی
لڑکی کے سامنے۔ اس نے ہیر کا کانپتا ہوا ہاتھ تھام لیا۔
"ششش..."
اس کی آواز ٹوٹ رہی
تھی۔
"رو
مت ہیر۔"
"اس
نے اپنی جیب سے رومال نکالا۔ ہیر کا
مسکاره صاف کیا۔ بہت احتیاط سے۔
"اور
رہی بات محبت کی..." تو میں بے بس
ہوں ہیر ۔۔۔۔۔ اس نے ہیر کی پیشانی پر
ہاتھ رکھا۔ کوئی اس کے بابا جیسا مضبوط
ہاتھ تھا گرم۔ مضبوط۔ سہارا دینے والا
ہاتھ۔
آج پہلی بار... کوئی اس
کے آنسو پونچھ رہا تھا۔
کوئی اس کے بابا جیسا
مضبوط ہاتھ تھا۔ ہیر نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
سامنے زمان شاه: تھا۔ گھٹنوں کے بل۔
32 سال کی
عمر... اور آنکھوں میں 23 سال کی
عزت۔ اس کے ہاتھ کا لمس... بابا کے جانے کے بعد پہلا لمس تھا۔ جو محبت مانگ نہیں رہا تھا۔ بس دے رہا تھا۔
ہیر نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا:
*"سر...
آپ کا ہاتھ... میرے بابا جیسا ہے۔"* زمان شاه: کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
اس نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔
پیشانی پر ہی رکھا رہنے دیا۔ "ہاں ہیر۔ اس کی آواز بھری ہوئی تھی۔
"میں یہ وعده کرتا ہوں..." تمہاری ہر قدم پہ حفاظت کروں گا
"کہ دنیا میں کوئی تمہاری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھے
گا۔"
"اور
جو دیکھے گا..." اس کی آواز سخت ہو
گئی۔ "اس کا ہاتھ... میں توڑ دوں
گا۔" ہیر نے سسکی لی۔ پھر سر ہلا دیا۔
"جی۔۔۔"
اب بس۔۔۔۔۔
"رو
کر اپنی کتاب کی سیاہی خراب کرو گی تو..."
"ارمان
میرے" کون لکھے گا؟"
ہیر نے پہلی بار روتے
ہوئے ہلکا سا ہنس دیا۔ زمان شاه: کھڑا ہوا۔ اپنا کوٹ اتارا۔ ہیر کے کندھوں پر ڈال دیا۔ چلو شاباش رونا بند
کرو ہم گھر جارہے ہیں۔۔۔۔
"آج
کے بعد... رات کو اکیلی نہیں جاؤ گی۔" وه دروازے کی طرف بڑھا۔ پھر رک کر بولا بغیر پلٹے:
"اور
ہاں ہیر..."
تم عام نہیں ہو ۔۔۔۔ماحول پر سکون ہو گیا تھا
۔۔۔۔جیسے ہوا ، روشنیاں ، اور گلاب یک زبان ہو کر کہ رہے ہو ۔۔۔۔
تم کمزور نہیں ہو۔۔۔
قدرت تم پر مہربان ہے ہیر!!
ہیر تم خوش قسمتی کا
ستاره ہو ۔۔۔۔❤
از
قلم : عائشہ یونس

Comments