Skip to main content

Disclaimer

 

The information provided on Pen and Paper is for general informational and educational purposes only. All content published on this blog reflects the personal opinions, thoughts, and experiences of the author.

While we strive to provide accurate and up-to-date information, we make no warranties regarding the completeness, reliability, or accuracy of the content. Any action you take based on the information found on this website is strictly at your own risk.

Pen and Paper will not be liable for any losses or damages arising from the use of this website.

Some articles may contain links to external websites for additional information. We do not control the content or policies of those websites and are not responsible for their practices.

If this website displays advertisements through Google AdSense or other advertising partners, those advertisements may use cookies to provide personalized ads in accordance with their privacy policies.

By using this website, you agree to this disclaimer and its terms.

If you have any questions regarding this disclaimer, please contact us through our Contact Us page.

Comments

Popular posts from this blog

ہیر کمزور نہیں تھی

    -------------— ( ہیر کمزور نہیں تھی) ــــــــــــــ اک اداس   شام ، ۔۔ڈھلتا سورج   اور تپتی زمین مد مقابل تھے۔۔۔گھڑی کی ٹکٹک بہت واضح ، پرندے جیسے خاموش تھے۔۔اک اوسط طبقے کے گھر میںمکین وه کچی عمر کی دوشیزه۔۔اپنے بستر پر   نیم دراز ۔۔۔عجیب خیالات میںمحو۔۔۔خود سے ہی سوالات کے جوابات ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔نہیں معلوم کس الجھن کا شکار تھی۔۔۔جو اک جگہ سے تھک جاتی تو دوسری جگہ لیٹ کر خود کو اک نئے انداز میں بہلانے لگ جاتی ۔۔۔کبھی گلدستہ کا اک پھول اسے راضی کر دیتا تو کبھی دیوار کی کوئی دراڑ   اسے منہ چڑھا دیتی۔۔۔مگر خود پہ یقین کامل رکھتی تھی ، وه اپنے عمر رسیده حجرے میں بھی شدید مطمئن تھی۔۔۔چاہتی تھی رنگ لانا ، مگر لوگوں کی زندگیوں میں ، نہ کہ ان دیواروں پہ جو بھول چکی تھی کہ ان پہ آخری رنگ کونسا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی ہوا نے پردے کو ہلکا سا جنبش دی۔ دھول کے ذرات سورج   کی آخری کرنوں میں رقص کر رہے تھے، جیسے اس کے اندر کے سوالوں    کا جواب مانگ رہے ہوں۔   اس نے آنکھیں بند کیں اور سوچا... اگر میں ایک لفظ ہوتی تو کون سا ہوتی؟   ....

“پاکستان: وعدوں کا قبرستان یا امید کی آخری سانس؟”

ایک گھٹن زدہ ریاست:  جب  حکومت ناکام ہو  جائے  اور  عوام   ٹوٹنے لگیں پاکستان اس وقت صرف ایک معاشی بحران سے نہیں گزر رہا—یہ ایک نظامی ناکامی (systemic failure) کا شکار ہے۔ ایک ایسا نظام جو نہ صرف عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکا ہے بلکہ ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سوال مزید تیز ہوتا جا رہا ہے: کیا یہ حکومت عوام کے لیے ہے بھی یا نہیں؟ “بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے” مہنگائی نہیں—معاشی استحصال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اب محض معاشی مجبوری نہیں لگتا—یہ ایک منظم استحصال محسوس ہوتا ہے۔ جب ایک ملک کے پاس متبادل راستے موجود ہوں، جب خطے میں سستے وسائل دستیاب ہوں، تو پھر عوام کو مہنگائی کے اس عذاب میں کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ یہ اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا:ٹ رانسپورٹ مہنگیا شیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پرب جلی اور گیس کے بل ناقابلِ برداشت یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں پستا صرف عام آدمی ہے—اور فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ یہ سوال آج بھی جواب مانگ رہا ہے۔ تعلیم: ایک تباہ شدہ نظام تعلیم کا نظام...

The Brave Old Man vs the Billion-Dollar Silence: A Satirical Take on Ayatollah Ali Khamenei and the Palestine Crisis