When My Nervous System Spoke to Me

My Nervous System to Me



کچھ نہیں ہوا... ایسا بھی کچھ نہیں ہوا کہ تم خود کے اندر اتنا کچھ جمع کر کے بیٹھ جاؤ۔ اس خالی جگہ کو اتنا کیوں بھرے جا رہی ہو؟ وہاں کچھ نہیں ہے... ذرا رکو... ٹھہرو...

اتنے thoughts... اتنے emotions... اتنے چھوٹے چھوٹے خیال... اور اتنی emotional instability ایک ہی ساتھ... میری برداشت سے باہر ہے۔ تم ہر احساس کو اتنی شدت سے کیوں محسوس کرتی ہو؟ ہر بات کو دل پر کیوں لے لیتی ہو؟ ہر خاموشی میں اتنی آوازیں کیوں بھر لیتی ہو؟

تم ہمیشہ وہی کام کیوں کرتی ہو جن سے مجھے تکلیف ملے؟ یوں دیر دیر تک سانسیں روک کے ایک جگہ بیٹھ جانا... یوں دھندلائی دھندلائی نظروں سے ایک ہی سمت گھورتے رہنا... یوں خود میں گم ہو جانا کہ آس پاس کی دنیا بھی اجنبی لگنے لگے... آخر کیوں؟

تمہیں لگتا ہے تم صرف خاموش بیٹھی ہو، مگر میں جانتا ہوں تمہارے اندر کیا چل رہا ہے۔ ایک خیال ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا آ جاتا ہے۔ ایک ڈر جاتا نہیں کہ دوسرا دروازہ کھٹکھٹانے لگتا ہے۔ تمہارا دماغ ایک لمحے کے لیے بھی آرام نہیں کرتا، اور اس کا بوجھ مجھے اٹھانا پڑتا ہے۔

اور یہ جو تم ہر بات اپنے اندر دفن کر دیتی ہو... یہ بھی مجھے ہی تو توڑتا ہے۔ تم روتی نہیں، بس آنکھوں میں نمی لیے خاموش رہتی ہو۔ تم بولتی نہیں، بس بند لبوں یا نیم وا لبوں سے خود سے بڑبڑاتی رہتی ہو۔ کبھی دل کو سمجھاتی ہو، کبھی دماغ سے لڑتی ہو، اور کبھی دونوں سے ہار جاتی ہو۔

کیا تمہیں یاد ہے کہ آخری بار تم نے بلند آواز میں خود کو تسلی کب دی تھی؟ نہیں نا؟ کیونکہ تم تھک چکی ہو... کیونکہ تم ڈرتی ہو۔ خود کو پکارنے سے... خود کو سمجھانے سے... اونچی آواز میں یہ کہنے سے کہ "میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔"

آخر تم اپنے ساتھ کر کیا رہی ہو؟ کیوں بات بے بات اپنا جسم بے جان کر لیتی ہو؟ کیوں کانپنے لگتی ہو؟ کیوں سن پڑ جاتی ہو؟ کیوں سانسیں روک لیتی ہو؟ کیوں اپنے لب کاٹتی رہتی ہو؟ کیا تمہیں خوف نہیں آتا جب تمہارا دل درد اور تکلیف سے یوں سکڑتا اور پھر زور سے دھڑکنے لگتا ہے؟

میں ہر بار تمہیں signal بھیجتا ہوں۔ کبھی سینے کی گھبراہٹ بن کر، کبھی جسم کی تھکن بن کر، کبھی گردن اور کندھوں کے بوجھ بن کر، کبھی بے وجہ آنسوؤں کی صورت میں، اور کبھی اس خاموشی کی شکل میں جس کا مطلب صرف خاموشی نہیں ہوتا۔ مگر تم ہر بار مجھے نظر انداز کر دیتی ہو۔

اٹھو... ذرا سی movement دکھاؤ۔ ایک گہری سانس لے لو۔ تھوڑا چل لو۔ پانی پی لو۔ کسی سے بات کر لو۔ یا کم از کم خود سے تو نرمی سے بات کر لو۔ تمہارا وجود آہستہ آہستہ سن پڑ رہا ہے... خون کی شریانیں جیسے جم رہی ہیں... اور مجھ سے اتنا pressure ایک ساتھ برداشت نہیں ہو پا رہا۔

مجھے سنو... ادھر سنو... کیا تمہیں سمجھ آ رہی ہے وہ signals جو میں مسلسل تمہارے جسم کو بھیج رہا ہوں؟

کبھی تو میری بھی سن لیا کرو... کیونکہ میں تمہارے خلاف نہیں ہوں... میں تو صرف تمہیں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں"

Comments

Popular posts from this blog

ہیر کمزور نہیں تھی

“پاکستان: وعدوں کا قبرستان یا امید کی آخری سانس؟”